11 ماہ میں کسی بھی محکمے میں سفارش پر کوئی تعیناتی نہیں کی، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہا ہے کہ 11 ماہ کے عرصے میں کسی بھی محکمے میں سفارش پر کوئی تعیناتی نہیں کی، طلبہ کو میرٹ پر سکالر شپس دی جا رہی ہیں، کوئی سفارش قبول نہیں کی، 5 سال چور چور کا راگ الاپنے والے کوئی ثبوت نہیں دے سکے،سیالکوٹ میں گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی میں ہونہار سکالرزشپ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ سکالر شپ حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ والدین بیٹیوں کو بیٹوں کے مطابق اسپیس دیں ۔ میں سکالر شپس حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کیونکہ آپ نے اپنی محنت سے سکالر شپس حاصل کیں۔ مریم نواز نے کہا کہ سکالر شپ پروگرام سیکنڈ ایئر اور تھرڈ ایئر کے طلبہ کیلئے بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے مجھے صوبے کے ہر طالبعلم کا خیال رکھنا ہے، کوشش ہے صوبے میں کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ مستحق اور لائق بچوں کی مالی معاونت بھی کی جائے گی۔میرے والد اور والدہ نے مجھ پر اعتماد کیا اور میں آج سب کے سامنے کھڑی ہوں۔ ہونہار طلبہ و طالبات پاکستان کا مستقبل ہیں۔ جبکہ 30 ہزار سکالر شپس کو بڑھا کر 50 ہزار کریں گے۔کسی بھی قوم کی بہتری میں تعلیم کا معیار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہونہار طلبہ نے سکالر شپس اپنی محنت اور اہلیت سے حاصل کی ہیں۔ آپ جیسے ہونہار طلبہ ہی پاکستان کا مستقبل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ میری پہلی ترجیح نوجوان ہیں، نوجوانوں کیلئے راستے نکالنا میری ذمہ داری ہے میں ذمہ داری نبھاوں گی۔ لیپ ٹاپ کی پہلی کھیپ پہنچ گئی ہے، طالبعلموں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم کا عمل جلد شروع کریں گے، جلد طلبہ کو مفت ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس بھی دوں گی۔ پہلی بار طلبہ کو محسوس ہوا کہ کسی نے ان کے میرٹ کی قدر کی۔بطور وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیم کے فروغ کیلئے کوششیں جاری رکھوں گی۔ ہر معاملے میں میرٹ پر کام کرتی ہوں۔ اور 11 ماہ میں وزیراعلیٰ آفس میں ایک بھی تعیناتی سفارش پر نہیں ہوئی۔ کسی بھی محکمے میں کوئی بھی تقرری سفارش پر نہیں کی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاست خدمت کا نام ہے۔ ہم نے تشدد کی سیاست کبھی نہیں کی، ہم لشکر کشی کے بجائے خدمت کی سیاست پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے پنجاب پر حملہ کیا۔ 5 سال چور چور کا راگ الاپنے والے کوئی ثبوت نہیں دے سکے، جو نوجوانوں کے ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے انہوں نے کیا کام کئے؟ کبھی نہیں کہا کہ میری خاطر سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرو، کبھی نہیں کہا کہ رینجرز اور پولیس کی وردیاں پھاڑ دو۔ چور چور کہنے والوں پر آج کل کس چوری کا مقدمہ ہے؟۔ ہم نے تو ہر سوال کا جواب دیا اور آپ بھی اپنا حساب دیں۔ 190 ملین پاﺅنڈ کیسے بنایا گیا اس کا جواب دیں۔ اور اختلاف رکھنا سب کا حق ہے لیکن کسی کی تذلیل کا حق کسی کو نہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ ماضی میں تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ہم نے 20 ہزار میں سے ایک بھی سکالرشپ سفارش پر نہیں دیا۔ اور میری کوشش ہے پنجاب میں کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔